لون کیلکولیٹر کیسے استعمال کریں
- قرض کی رقم – جتنی رقم آپ ادھار لے رہے ہیں۔ اگر پروسیسنگ فیس قرض میں سے کاٹی جائے تب بھی قسط پوری منظور شدہ رقم پر بنتی ہے۔
- سالانہ شرح – بینک کی بتائی ہوئی سالانہ شرح۔ پاکستان میں پرسنل لون کی شرح عموماً KIBOR جمع ایک بڑے مارجن پر طے ہوتی ہے۔
- مدت – سال یا مہینوں میں۔ پرسنل لون عام طور پر 1 سے 5 سال کے ہوتے ہیں۔
36 ماہ تک کی مدت میں آپ کو ہر مہینے کی قسط کا شیڈول نظر آئے گا، اس سے لمبی مدت میں سال بہ سال کا۔
قسط کیسے نکلتی ہے
بینک کم ہوتے بیلنس کے طریقے سے قسط طے کرتے ہیں:
EMI = P × r ÷ (1 − (1 + r)−n)
P قرض کی رقم، r ماہانہ شرح (سالانہ شرح ÷ 12) اور n قسطوں کی تعداد ہے۔ ہر قسط میں سے پہلے اس مہینے کا سود کٹتا ہے، باقی رقم اصل قرض کم کرتی ہے۔ اس لیے قسط ایک جیسی رہتی ہے، مگر اس میں سود کا حصہ ہر مہینے کم ہوتا جاتا ہے۔
مثال: 5 لاکھ روپے کا پرسنل لون
فرض کریں آپ 22% سالانہ شرح پر 5 لاکھ روپے کا قرض 3 سال کے لیے لیتے ہیں۔ ماہانہ قسط Rs 19,095 ہوگی اور 36 قسطوں میں آپ کل Rs 187,428 سود دیں گے۔ مختلف مدتوں کا اثر دیکھیں:
| مدت | ماہانہ قسط | کل سود |
|---|---|---|
| 1 سال | Rs 46,797 | Rs 61,566 |
| 2 سال | Rs 25,939 | Rs 122,538 |
| 3 سال | Rs 19,095 | Rs 187,428 |
| 4 سال | Rs 15,753 | Rs 256,146 |
| 5 سال | Rs 13,809 | Rs 328,567 |
مدت دگنی کرنے سے قسط آدھی نہیں ہوتی، لیکن سود تقریباً دگنا ہو جاتا ہے۔ اس لیے اتنی ہی مدت چنیں جتنی قسط آپ آرام سے ادا کر سکیں۔
“فلیٹ ریٹ” سے ہوشیار رہیں
کچھ دکان دار، ڈیلر یا قسطوں پر سامان بیچنے والے “فلیٹ ریٹ” بتاتے ہیں – یعنی پوری مدت کا منافع شروع کی رقم پر۔ 3 سال کے لیے 12% فلیٹ ریٹ سننے میں سستا لگتا ہے، مگر کم ہوتے بیلنس کے حساب سے یہ تقریباً 21–22% سالانہ کے برابر پڑتا ہے، کیونکہ آپ ادا کی جا چکی رقم پر بھی منافع دیتے رہتے ہیں۔ موازنہ ہمیشہ سالانہ شرح یا APR پر کریں، اور معاہدے سے پہلے بینک سے کل لاگت کا تحریری حساب (Key Fact Statement) مانگیں۔
قرض سستا کرنے کے طریقے
- کریڈٹ ریکارڈ صاف رکھیں – اسٹیٹ بینک کے eCIB اور نجی کریڈٹ بیوروز میں دیر سے ادائیگی کا ریکارڈ آئندہ قرض مہنگا یا ناممکن بنا سکتا ہے۔
- کئی بینکوں کا موازنہ کریں – جس بینک میں آپ کی تنخواہ آتی ہے وہ اکثر بہتر آفر دیتا ہے۔
- فیس پہلے پوچھیں – پروسیسنگ فیس، انشورنس، تاخیر کی پینلٹی اور قبل از وقت ادائیگی کی فیس۔
- مہنگے قرض پہلے اتاریں – ایک سے زیادہ قرض ہوں تو قرض اتارنے کی منصوبہ بندی کا کیلکولیٹر دیکھیں۔
اگر آپ سود سے بچنا چاہتے ہیں تو اسلامی بینک ذاتی ضرورت کے لیے مرابحہ یا اجارہ کی بنیاد پر فنانسنگ دیتے ہیں؛ وہاں بھی ماہانہ ادائیگی کا اندازہ اسی کیلکولیٹر سے لگایا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ نتائج منصوبہ بندی کے لیے تخمینے ہیں، مالی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ حتمی اعداد بینک کے آفر لیٹر اور معاہدے میں ہوتے ہیں؛ بڑے فیصلے سے پہلے اپنے بینک، کسی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یا ٹیکس کنسلٹنٹ سے بات کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
ایک لاکھ روپے کے قرض کی قسط کتنی ہوگی؟
22% سالانہ شرح پر ایک لاکھ روپے کی قسط 1 سال کے لیے تقریباً Rs 9,359، 3 سال کے لیے Rs 3,819 اور 5 سال کے لیے Rs 2,762 بنتی ہے۔ اپنی شرح اور مدت اوپر درج کر کے درست عدد دیکھیں۔
شرح اور APR میں کیا فرق ہے؟
شرح سے آپ کی قسط طے ہوتی ہے۔ APR میں پروسیسنگ فیس جیسے لازمی اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں، اس لیے وہ عموماً کچھ زیادہ ہوتا ہے۔ مختلف آفرز کا موازنہ APR پر کرنا بہتر ہے۔
کیا قرض جلد اتارنے سے سود بچتا ہے؟
ہاں۔ کم ہوتے بیلنس میں سود صرف باقی رقم پر لگتا ہے، اس لیے جلد ادائیگی سے آگے کا سود کم ہو جاتا ہے۔ بعض بینک قبل از وقت ادائیگی پر فیس لیتے ہیں – معاہدہ دیکھ لیں۔
کیا یہ کیلکولیٹر قسطوں پر موبائل یا موٹر سائیکل کے لیے بھی کام کرے گا؟
اگر ہر مہینے برابر قسط ہے تو ہاں۔ دکان دار اگر صرف کل قیمت اور قسط بتائے تو مختلف شرحیں آزما کر وہ شرح ڈھونڈیں جس پر یہی قسط بنتی ہے – وہی اصل سالانہ شرح ہے۔
آخری تازہ کاری: 8 اکتوبر، 2026