ہوم لون کیلکولیٹر: گھر کی ماہانہ قسط اور کل سود

گھر خریدنے سے پہلے جانیں کہ ہر مہینے اصل میں کتنا خرچ آئے گا۔ گھر کی قیمت، ڈاؤن پیمنٹ اور شرح درج کریں – آپ کو ماہانہ قسط، کل سود، انشورنس اور مینٹیننس سمیت ماہانہ خرچ اور پورے فنانس کا سال بہ سال شیڈول ملے گا۔

قیمت کا وہ حصہ جو آپ اپنی جیب سے دیتے ہیں (ایکویٹی)۔ پاکستانی بینک عموماً قیمت کا پورا حصہ فنانس نہیں کرتے، اس لیے 15% سے 30% یا اس سے زیادہ اپنا حصہ عام ہے۔
بینک کی بتائی ہوئی سالانہ شرح، جو اکثر KIBOR جمع بینک کا مارجن ہوتی ہے۔ 13% صرف ایک مثال ہے۔
صوبائی پراپرٹی ٹیکس، گھر کی قیمت کے فیصد میں۔ عموماً بہت کم ہوتا ہے؛ معلوم نہ ہو تو 0 رہنے دیں۔
ہاؤسنگ سوسائٹی یا اپارٹمنٹ کے ماہانہ مینٹیننس چارجز۔ نہ ہوں تو 0 چھوڑ دیں۔
کل ماہانہ خرچRs 124,265
قسط (اصل رقم + سود)Rs 123,015
فنانس کی رقمRs 10,500,000
  • قسط (اصل رقم + سود): Rs 123,015 (99%)
  • ٹیکس، انشورنس اور مینٹیننس: Rs 1,250 (1%)
ڈاؤن پیمنٹRs 4,500,000
پراپرٹی ٹیکس (ماہانہ)Rs 0
انشورنس / تکافل (ماہانہ)Rs 1,250
پوری مدت میں کل سودRs 19,023,708
اصل رقم + سود کا مجموعہRs 29,523,708
ادائیگی کا شیڈول (سالانہ)
سالسوداصل رقمباقی رقم
1Rs 1,358,130Rs 118,055Rs 10,381,945
2Rs 1,341,835Rs 134,351Rs 10,247,594
3Rs 1,323,290Rs 152,896Rs 10,094,698
4Rs 1,302,185Rs 174,000Rs 9,920,698
5Rs 1,278,168Rs 198,018Rs 9,722,680
6Rs 1,250,835Rs 225,351Rs 9,497,329
7Rs 1,219,729Rs 256,456Rs 9,240,873
8Rs 1,184,330Rs 291,856Rs 8,949,017
9Rs 1,144,044Rs 332,141Rs 8,616,876
10Rs 1,098,198Rs 377,988Rs 8,238,888
11Rs 1,046,023Rs 430,162Rs 7,808,726
12Rs 986,647Rs 489,539Rs 7,319,187
13Rs 919,075Rs 557,111Rs 6,762,077
14Rs 842,175Rs 634,010Rs 6,128,066
15Rs 754,661Rs 721,524Rs 5,406,542
16Rs 655,067Rs 821,118Rs 4,585,424
17Rs 541,726Rs 934,459Rs 3,650,965
18Rs 412,741Rs 1,063,445Rs 2,587,521
19Rs 265,951Rs 1,210,235Rs 1,377,286
20Rs 98,899Rs 1,377,286Rs 0

حساب آپ کے آلے پر ہوتا ہے · فارمولے معلوم نتائج سے جانچے گئے · ہم کیسے جانچتے ہیں

ہوم لون کیلکولیٹر کیسے استعمال کریں

  1. گھر کی قیمت – مکان، پلاٹ پر تعمیر یا فلیٹ کی سودے والی قیمت، ٹیکس اور رجسٹری کے اخراجات کے بغیر۔
  2. ڈاؤن پیمنٹ – قیمت کا وہ فیصد جو آپ خود ادا کریں گے۔ باقی رقم بینک فنانس کرے گا۔
  3. سالانہ شرح – روایتی بینک میں مارک اپ یا سود کی شرح، اسلامی بینک میں کرائے/منافع کی شرح۔ دونوں عموماً KIBOR سے جڑی ہوتی ہیں۔
  4. مدت – کتنے سال میں ادائیگی کرنی ہے۔ پاکستان میں ہاؤس فنانس عام طور پر 5 سے 25 سال کے لیے ملتا ہے۔
  5. پراپرٹی ٹیکس، انشورنس اور مینٹیننس – یہ قسط کا حصہ نہیں لیکن ہر مہینے کے بجٹ پر اثر ڈالتے ہیں۔

سب سے بڑا عدد آپ کا کل ماہانہ خرچ ہے۔ رنگین پٹی دکھاتی ہے کہ اس میں سے کتنا قسط ہے اور کتنا دوسرے اخراجات۔ نیچے کا جدول ہر سال کے آخر میں باقی رقم دکھاتا ہے۔

قسط کا فارمولا

پاکستان میں تقریباً ہر ہاؤس فنانس کم ہوتے بیلنس (reducing balance) پر چلتا ہے: ہر مہینے سود صرف باقی رقم پر لگتا ہے اور قسط پوری مدت میں ایک جیسی رہتی ہے، جب تک شرح نہ بدلے۔

EMI = P × r × (1 + r)n ÷ ((1 + r)n − 1)

یہاں P فنانس کی رقم ہے، r ماہانہ شرح (سالانہ شرح ÷ 12 ÷ 100) اور n قسطوں کی کل تعداد (سال × 12)۔

مثال: 1.5 کروڑ روپے کا گھر، 30% یعنی 45 لاکھ روپے ڈاؤن پیمنٹ، تو فنانس 1.05 کروڑ روپے۔ 13% سالانہ شرح پر 20 سال کے لیے ماہانہ قسط Rs 123,015 بنتی ہے۔ پورے 20 سال میں آپ تقریباً 1.9 کروڑ روپے صرف سود یا منافع کی مد میں دیں گے – یعنی فنانس کی رقم سے بھی زیادہ۔

مدت کا اثر: کم قسط یا کم سود؟

لمبی مدت سے قسط کم ہوتی ہے مگر کل سود کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسی 1.05 کروڑ روپے کے فنانس پر 13% شرح کے ساتھ:

مدتماہانہ قسطکل سود
25 سالRs 118,4232.5 کروڑ روپے
20 سالRs 123,0151.9 کروڑ روپے
15 سالRs 132,8501.34 کروڑ روپے
10 سالRs 156,77683.13 لاکھ روپے

ہر ایک لاکھ روپے کے فنانس پر قسط کتنی آتی ہے، یہ جدول فوری اندازے کے لیے مفید ہے:

شرح10 سال15 سال20 سال25 سال
11%Rs 1,378Rs 1,137Rs 1,032Rs 980
12%Rs 1,435Rs 1,200Rs 1,101Rs 1,053
13%Rs 1,493Rs 1,265Rs 1,172Rs 1,128
14%Rs 1,553Rs 1,332Rs 1,244Rs 1,204
15%Rs 1,613Rs 1,400Rs 1,317Rs 1,281

مثلاً 14% پر 20 سال کے لیے 80 لاکھ روپے کی قسط تقریباً 80 × Rs 1,244 = Rs 99,482 ہوگی۔

اسلامی ہاؤس فنانس: شرکتِ متناقصہ

پاکستان میں ہاؤس فنانس کا بڑا حصہ اسلامی بینک دیتے ہیں، جو اکثر شرکتِ متناقصہ (diminishing musharaka) کا طریقہ اپناتے ہیں: بینک اور آپ مل کر گھر خریدتے ہیں، آپ بینک کے حصے کا کرایہ دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ اس کے یونٹ خریدتے جاتے ہیں، یہاں تک کہ پورا گھر آپ کا ہو جائے۔ قانونی ڈھانچہ سودی قرض سے مختلف ہے، لیکن جب کرایہ باقی حصے کے حساب سے طے ہو تو ماہانہ ادائیگی کا حساب عموماً اسی فارمولے کے بہت قریب آتا ہے۔ اس لیے یہ کیلکولیٹر اسلامی فنانس کا اندازہ لگانے کے لیے بھی کارآمد ہے؛ شرح کی جگہ بینک کی بتائی ہوئی کرائے کی شرح درج کریں۔

متغیر شرح (KIBOR) اور قبل از وقت ادائیگی

زیادہ تر ہاؤس فنانس متغیر شرح پر ہوتے ہیں، جو عموماً سال میں ایک بار KIBOR کے مطابق نئی ہوتی ہے۔ KIBOR بڑھے تو قسط بڑھتی ہے، گھٹے تو کم ہوتی ہے۔ یہ کیلکولیٹر پوری مدت کے لیے ایک ہی شرح مانتا ہے، اس لیے شرح بدلنے پر نئی شرح ڈال کر دوبارہ دیکھیں۔ بونس یا بچت سے کی گئی جزوی ادائیگی شروع کے برسوں میں بہت سود بچاتی ہے – قسطوں کے شیڈول والے کیلکولیٹر میں اضافی ادائیگی ڈال کر دیکھیں کہ مدت کتنی کم ہوتی ہے۔ بعض بینک قبل از وقت ادائیگی پر فیس لیتے ہیں، یہ معاہدے میں دیکھ لیں۔

قسط کے علاوہ اخراجات

نوٹ: یہ نتائج منصوبہ بندی کے لیے تخمینے ہیں، مالی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ حتمی اعداد بینک کے آفر لیٹر اور معاہدے میں ہوتے ہیں؛ بڑے فیصلے سے پہلے اپنے بینک، کسی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یا ٹیکس کنسلٹنٹ سے بات کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

ہوم لون کے لیے کتنی ڈاؤن پیمنٹ چاہیے؟

یہ بینک اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ضوابط پر منحصر ہے۔ عموماً بینک گھر کی قیمت کا ایک حصہ ہی فنانس کرتے ہیں، اس لیے 15% سے 30% یا اس سے زیادہ اپنا حصہ، اور اوپر سے ٹیکس، اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹری کے اخراجات آپ کو خود جمع کرنے ہوں گے۔

میری تنخواہ پر کتنا ہوم لون مل سکتا ہے؟

بینک دیکھتے ہیں کہ نئی قسط سمیت آپ کی تمام قسطیں آپ کی ماہانہ آمدنی کے ایک مقررہ حصے (ڈیٹ برڈن ریشو، DBR) سے زیادہ نہ ہوں۔ اپنی آمدنی سے اندازہ لگانے کے لیے ہوم لون اہلیت کیلکولیٹر دیکھیں۔

شروع کی قسطوں میں زیادہ تر سود کیوں جاتا ہے؟

سود ہر مہینے باقی رقم پر لگتا ہے۔ شروع میں باقی رقم سب سے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے سود کا حصہ بھی سب سے بڑا ہوتا ہے۔ جیسے جیسے اصل رقم کم ہوتی ہے، قسط کا بڑا حصہ قرض اتارنے میں جانے لگتا ہے۔

کیا یہ کیلکولیٹر اسلامی بینک کے ہاؤس فنانس کے لیے بھی درست ہے؟

اندازے کے لیے ہاں۔ شرکتِ متناقصہ میں ماہانہ ادائیگی کرائے اور یونٹ کی خریداری سے مل کر بنتی ہے، اور عموماً اسی فارمولے کے قریب ہوتی ہے۔ حتمی ادائیگی کا شیڈول بینک کی دستاویزات میں ہوتا ہے۔

یہ قسط کتنی درست ہے؟

ایک مقررہ شرح کے لیے قسط اور سود کا حساب بالکل درست ہے۔ بینک کے اعداد راؤنڈنگ، ادائیگی کی تاریخ اور سالانہ شرح کی تبدیلی (KIBOR) کی وجہ سے تھوڑے مختلف ہو سکتے ہیں۔

یہ کیلکولیٹر اپنی ویب سائٹ پر لگائیں

کسی بھی ویب سائٹ یا بلاگ کے لیے مفت۔ جہاں کیلکولیٹر دکھانا ہو وہاں یہ کوڈ پیسٹ کریں:

آخری تازہ کاری: 8 اکتوبر، 2026

مینو

زمرے

فنانس کیلکولیٹر15 کیلکولیٹرکاروبار اور خریداری کے کیلکولیٹر5 کیلکولیٹرصحت اور فٹنس کیلکولیٹر6 کیلکولیٹرریاضی اور تعلیم کے کیلکولیٹر6 کیلکولیٹرتاریخ اور وقت کے کیلکولیٹر6 کیلکولیٹرتہواروں اور خاص دنوں کی الٹی گنتی6 کیلکولیٹرروزمرہ کے کیلکولیٹر اور ٹول4 کیلکولیٹر

CalcWorthy

ہمارے بارے میںرابطہرازداری کی پالیسیاستعمال کی شرائط

زبان

زبان
اردوUrduEnglishEnglishالعربيةArabicবাংলাBanglaDeutschGermanEspañolSpanishفارسیPersianFrançaisFrenchעבריתHebrewहिन्दीHindiBahasa IndonesiaIndonesianItalianoItalian日本語Japanese한국어KoreanBahasa MelayuMalayNederlandsDutchPolskiPolishPortuguêsPortugueseРусскийRussianไทยThaiTürkçeTurkishУкраїнськаUkrainianTiếng ViệtVietnamese简体中文Simplified Chinese