بینک کیسے طے کرتے ہیں کہ آپ کو کتنا ہاؤس فنانس ملے گا
پاکستان میں بینک ہاؤس فنانس دیتے وقت سب سے پہلے ڈیٹ برڈن ریشو (DBR) دیکھتے ہیں: آپ کی تمام ماہانہ قسطیں – نئی ہوم لون قسط سمیت – آپ کی ماہانہ خالص آمدنی کا کتنا حصہ ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پروڈینشل ریگولیشنز اس کی بالائی حد طے کرتے ہیں اور بینک اپنی پالیسی میں اکثر اس سے کم حد رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی عمر (مدت کے آخر تک عمر کی حد)، ملازمت کا تسلسل، کریڈٹ ریکارڈ (eCIB) اور جائیداد کی قانونی حیثیت بھی دیکھی جاتی ہے۔
کیلکولیٹر کیسے استعمال کریں
- سالانہ خالص آمدنی – ماہانہ تنخواہ × 12۔ کاروباری افراد اپنی دستاویزی (ٹیکس ریٹرن والی) آمدنی لکھیں، کیونکہ بینک وہی مانتے ہیں۔
- چلتی قسطیں – کار، پرسنل لون اور کارڈ کی موجودہ ماہانہ ادائیگیاں۔
- ڈاؤن پیمنٹ کے لیے رقم – آپ کی اپنی جمع شدہ رقم جو گھر کی قیمت میں لگے گی۔ ٹیکس، رجسٹری اور منتقلی کے اخراجات کے لیے الگ رقم رکھیں۔
- حدیں – ہوم لون قسط کی حد اور تمام قسطوں کی حد (DBR)۔ اپنے بینک کی اصل حد پوچھ کر یہاں لکھیں۔
حساب کا طریقہ
زیادہ سے زیادہ قسط = کم از کم (ماہانہ آمدنی × ہوم لون حد، ماہانہ آمدنی × DBR − موجودہ قسطیں)۔ اس قسط سے انشورنس اور ٹیکس نکال کر جو بچے، اس سے قسط کے فارمولے کو الٹا چلا کر فنانس کی رقم نکالی جاتی ہے۔ گھر کی زیادہ سے زیادہ قیمت = فنانس کی رقم + ڈاؤن پیمنٹ۔
مثال
ماہانہ 2.5 لاکھ روپے خالص تنخواہ (سالانہ 30 لاکھ)، کوئی چلتی قسط نہیں، 30 لاکھ روپے ڈاؤن پیمنٹ، 13% شرح، 20 سال، 50% حد۔ زیادہ سے زیادہ قسط Rs 125,000، فنانس تقریباً 1.06 کروڑ روپے اور گھر کی زیادہ سے زیادہ قیمت تقریباً 1.36 کروڑ روپے۔ اگر 30,000 روپے کی کار فنانسنگ کی قسط بھی چل رہی ہو تو قسط کی گنجائش Rs 95,000 رہ جاتی ہے اور قیمت گھٹ کر تقریباً 1.1 کروڑ روپے ہو جاتی ہے۔
| ماہانہ آمدنی | زیادہ سے زیادہ قسط (50%) | فنانس | گھر کی قیمت (30 لاکھ ڈاؤن پیمنٹ کے ساتھ) |
|---|---|---|---|
| Rs 100,000 | Rs 50,000 | 41.61 لاکھ روپے | 71.61 لاکھ روپے |
| Rs 150,000 | Rs 75,000 | 62.95 لاکھ روپے | 92.95 لاکھ روپے |
| Rs 250,000 | Rs 125,000 | 1.06 کروڑ روپے | 1.36 کروڑ روپے |
| Rs 400,000 | Rs 200,000 | 1.7 کروڑ روپے | 2 کروڑ روپے |
| Rs 600,000 | Rs 300,000 | 2.55 کروڑ روپے | 2.85 کروڑ روپے |
اہلیت بڑھانے کے طریقے
- چلتے قرض ختم کریں – خاص طور پر کار یا کارڈ کی قسط، جو DBR میں سیدھی شامل ہوتی ہے۔
- شریک درخواست گزار – شوہر/بیوی یا والدین کی آمدنی شامل کرنے سے اہلیت بڑھ سکتی ہے (بینک کی شرائط کے مطابق)۔
- لمبی مدت – قسط کم ہوتی ہے اور اہلیت بڑھتی ہے، لیکن کل سود بھی بڑھتا ہے۔
- سرکاری اسکیمیں – وقتاً فوقتاً حکومت پہلی بار گھر خریدنے والوں کے لیے رعایتی شرح کی اسکیمیں لاتی ہے؛ ان کی تازہ شرائط بینک سے معلوم کریں۔
کسی خاص گھر کی قسط اور مکمل شیڈول کے لیے ہوم لون کیلکولیٹر استعمال کریں۔
نوٹ: یہ نتائج منصوبہ بندی کے لیے تخمینے ہیں، مالی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ حتمی اعداد بینک کے آفر لیٹر اور معاہدے میں ہوتے ہیں؛ بڑے فیصلے سے پہلے اپنے بینک، کسی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یا ٹیکس کنسلٹنٹ سے بات کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
1 لاکھ روپے تنخواہ پر کتنا ہوم لون مل سکتا ہے؟
50% حد، 13% شرح اور 20 سال کی مدت پر زیادہ سے زیادہ قسط 50,000 روپے، جس سے تقریباً 42.68 لاکھ روپے کا فنانس بنتا ہے۔ بینک کی اصل حد، عمر اور دیگر قسطوں سے یہ کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔
DBR کیا ہے؟
ڈیٹ برڈن ریشو: تمام ماہانہ قسطوں کا مجموعہ ÷ ماہانہ خالص آمدنی۔ اگر آپ کی آمدنی 2 لاکھ ہے اور کل قسطیں 80 ہزار تو DBR 40% ہے۔
کیا کاروباری افراد کو بھی ہاؤس فنانس ملتا ہے؟
ہاں، مگر بینک عموماً ٹیکس ریٹرن، بینک اسٹیٹمنٹ اور کاروبار کی مدت کا ثبوت مانگتے ہیں۔ آمدنی جتنی دستاویزی ہو، اہلیت اتنی واضح ہوتی ہے۔
ڈاؤن پیمنٹ کے علاوہ کتنی رقم چاہیے؟
ایڈوانس ٹیکس، اسٹامپ ڈیوٹی، رجسٹری یا ٹرانسفر فیس، بینک کی پروسیسنگ فیس اور ویلیوایشن کے اخراجات – یہ مل کر قیمت کا چند فیصد بن سکتے ہیں، اس لیے الگ رقم رکھیں۔
آخری تازہ کاری: 8 اکتوبر، 2026