بجٹ کیلکولیٹر (50/30/20)

بجٹ کیلکولیٹر: تنخواہ کو ضروریات، خواہشات اور بچت میں بانٹیں

ہر مہینے تنخواہ کہاں جاتی ہے؟ اپنی ماہانہ خالص آمدنی (ٹیکس کٹنے کے بعد) درج کریں اور بانٹنے کا اصول چنیں – آپ کو ضروریات، خواہشات اور بچت کی رقم، سالانہ بچت اور ایمرجنسی فنڈ کا ہدف ملے گا۔

ٹیکس اور کٹوتیوں (EOBI، پراویڈنٹ فنڈ) کے بعد ہاتھ میں آنے والی رقم۔ گھر میں کئی کمانے والے ہوں تو سب کی آمدنی جوڑیں۔
ضروریات / خواہشات / بچت اور قرض کی ادائیگی۔
ضروریاتRs 60,000
خواہشاتRs 36,000
بچت اور قرض کی ادائیگیRs 24,000
  • ضروریات: Rs 60,000 (50%)
  • خواہشات: Rs 36,000 (30%)
  • بچت: Rs 24,000 (20%)
سالانہ خالص آمدنیRs 1,440,000
ضروریات، سالانہRs 720,000
خواہشات، سالانہRs 432,000
بچت، سالانہRs 288,000
ایمرجنسی فنڈ کا ہدف (3–6 ماہ کی ضروریات)Rs 180,000 – Rs 360,000

ضروریات وہ بل ہیں جو ادا کرنے ہی ہیں، خواہشات وہ سب جو ٹالا جا سکتا ہے، اور بچت میں سرمایہ کاری اور قرض کی اضافی ادائیگی شامل ہے۔ قرض کی قسط ضروریات میں گنی جاتی ہے۔ ہر ماہ Rs 24,000 کی بچت منافع کے بغیر ہی سال میں Rs 288,000 بن جاتی ہے۔

حساب آپ کے آلے پر ہوتا ہے · فارمولے معلوم نتائج سے جانچے گئے · ہم کیسے جانچتے ہیں

50/30/20 اصول کیا ہے؟

یہ گھریلو بجٹ کا ایک آسان طریقہ ہے: ماہانہ خالص آمدنی کا 50% ضروریات پر، 30% خواہشات پر اور 20% بچت یا قرض کی اضافی ادائیگی پر۔ مقصد ہر روپے کا حساب رکھنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ مہینے کے آخر میں بچت “جو بچ جائے” پر نہ چھوڑی جائے۔

پاکستانی گھرانوں کے لیے کون سا اصول؟

بڑے شہروں میں کرایہ، بجلی کے بل اور اسکول فیس آمدنی کا بڑا حصہ لے لیتے ہیں، اس لیے 50% میں ضروریات پوری کرنا ہر کسی کے لیے ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں 60/20/20 یا 70/20/10 سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ بچت کا حصہ بڑھائیں۔ مشترکہ خاندان میں جہاں کئی لوگ کماتے اور خرچ بانٹتے ہیں، وہاں صرف اپنے حصے کی آمدنی اور اخراجات سے حساب کریں۔

مثال: مختلف آمدنیوں پر 50/30/20

ماہانہ آمدنیضروریات (50%)خواہشات (30%)بچت (20%)سالانہ بچت
Rs 50,000Rs 25,000Rs 15,000Rs 10,0001.2 لاکھ روپے
Rs 80,000Rs 40,000Rs 24,000Rs 16,0001.92 لاکھ روپے
Rs 120,000Rs 60,000Rs 36,000Rs 24,0002.88 لاکھ روپے
Rs 200,000Rs 100,000Rs 60,000Rs 40,0004.8 لاکھ روپے

1 لاکھ 20 ہزار روپے ماہانہ کمانے والا اگر 20% بچائے تو سال میں 2 لاکھ 88 ہزار روپے جمع ہوتے ہیں – منافع کے بغیر۔

بجٹ پر قائم رہنے کے طریقے

کسی خاص ہدف کے لیے ماہانہ کتنا بچانا ہے، یہ بچت کے ہدف کے کیلکولیٹر سے معلوم کریں۔

نوٹ: یہ نتائج منصوبہ بندی کے لیے تخمینے ہیں، مالی یا ٹیکس مشورہ نہیں۔ حتمی اعداد بینک کے آفر لیٹر اور معاہدے میں ہوتے ہیں؛ بڑے فیصلے سے پہلے اپنے بینک، کسی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یا ٹیکس کنسلٹنٹ سے بات کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

تنخواہ کا کتنا حصہ بچانا چاہیے؟

عام مشورہ کم از کم 20% ہے۔ اگر یہ فی الحال ممکن نہیں تو 5–10% سے شروع کریں اور ہر تنخواہ بڑھنے پر بچت کا فیصد بڑھائیں۔

قرض کی قسط کس خانے میں جائے؟

کم از کم لازمی قسط ضروریات میں شمار ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ جو رقم آپ قرض جلد اتارنے کے لیے دیں، وہ بچت والے حصے میں آتی ہے۔

کیا کمیٹی (BC) بچت میں شمار ہوگی؟

ہاں، کمیٹی کی ماہانہ رقم بچت والے حصے میں رکھیں۔ بس یاد رکھیں کہ اس پر منافع نہیں ملتا۔

اگر ضروریات 50% سے زیادہ ہوں تو؟

یہ بہت عام ہے۔ 60/20/20 یا 70/20/10 اصول چنیں اور دیکھیں کہ کون سے بڑے اخراجات – کرایہ، بجلی، گاڑی – وقت کے ساتھ کم کیے جا سکتے ہیں۔

یہ کیلکولیٹر اپنی ویب سائٹ پر لگائیں

کسی بھی ویب سائٹ یا بلاگ کے لیے مفت۔ جہاں کیلکولیٹر دکھانا ہو وہاں یہ کوڈ پیسٹ کریں:

آخری تازہ کاری: 8 اکتوبر، 2026

مینو

زمرے

فنانس کیلکولیٹر15 کیلکولیٹرکاروبار اور خریداری کے کیلکولیٹر5 کیلکولیٹرصحت اور فٹنس کیلکولیٹر6 کیلکولیٹرریاضی اور تعلیم کے کیلکولیٹر6 کیلکولیٹرتاریخ اور وقت کے کیلکولیٹر6 کیلکولیٹرتہواروں اور خاص دنوں کی الٹی گنتی6 کیلکولیٹرروزمرہ کے کیلکولیٹر اور ٹول4 کیلکولیٹر

CalcWorthy

ہمارے بارے میںرابطہرازداری کی پالیسیاستعمال کی شرائط

زبان

زبان
اردوUrduEnglishEnglishالعربيةArabicবাংলাBanglaDeutschGermanEspañolSpanishفارسیPersianFrançaisFrenchעבריתHebrewहिन्दीHindiBahasa IndonesiaIndonesianItalianoItalian日本語Japanese한국어KoreanBahasa MelayuMalayNederlandsDutchPolskiPolishPortuguêsPortugueseРусскийRussianไทยThaiTürkçeTurkishУкраїнськаUkrainianTiếng ViệtVietnamese简体中文Simplified Chinese